مشتِ گل ہوں وہ خرامِ ناز دیتا ہے مجھے
مشتِ گل ہوں وہ خرامِ ناز دیتا ہے مجھے
عرش تک گنجائشِ پرواز دیتا ہے مجھے
کہنہ ہونے ہی نہیں دیتا وہ میری داستاں
جب بھی لکھتا ہے نیا انداز دیتا ہے مجھے
آپ ہی رکھتا ہے میرے سامنے سربستہ راز
آپ ہی توفیقِ کشفِ راز دیتا ہے مجھے
زندہ رکھتا ہے مجھے رنج و خوشی کے درمیاں
ساز دیتا ہے شکستِ ساز دیتا ہے مجھے
شب کے پردے میں مجھے کرتا ہے انجام آشنا
دن کی صورت اک نیا آغاز دیتا ہے مجھے
جب میں لوٹ آتا ہوں دشتِ چار سو کو چھان کر
دل میں چھپ جاتا ہے اور آواز دیتا ہے مجھے
دور رکھتا ہے وہ عاصیؔ مجھ سے ساری ذلتیں
وہ کریم اعزاز پر اعزاز دیتا ہے مجھے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.