چلے ہیں اہلِ طلب سوئے منزلِ مقصود
چلے ہیں اہلِ طلب سوئے منزلِ مقصود
دلوں میں عشق لبوں پر ترانہ ہائے درود
جمی ہوئی ہے نظر ان کے سبز گنبد پر
اتر رہی ہیں دل و جاں میں کیفیاتِ شہود
درِ کرم پہ کھڑے ہیں بہ چشمِ تر آقا
نظر جھکی ہوئی، پیشانیاں عرق آلود
خوشا نصیبِ کسی کو بد امنِ تو رسید
بہ دامنِ تو رسید و بہ دوجہاں آسود
بس اک نشاطِ حضوری کہ جس میں بعد نہ ہجر
بس اک زمانِ مسلسل کہ جس میں رفت نہ بود
ابد کے نرخِ گراں پر بھی میں عطا نہ کروں
تڑپ تڑپ کے ملا ہے یہ لمحۂ موجود
یہ ساری رونقِ ہستی انہی سے ہے ورنہ
سوائے خلوتِ لاہوت کچھ نہ تھا موجود
احاطہ ان کے جلال و جمال کا کیا ہو
کہ ہیں وسائلِ عشق و خرد بہت محدود
چراغِ ماہ میں وہ شمعِ آفتاب ان سے
ستارہ ہائے فلک سے زیادہ ان پہ درود
اگر اطاعتِ سرکار پر نہ ہو بنیاد
مثالِ خانۂ برباد ہیں رکوع و سجود
انہی کے در پہ کجاوے کھلیں گے آخرکار
رکے گا ایک ہی منزل پہ کاروانِ وجود
بجز گزارشِ دیدار کیا کروں عاصیؔ
کہ ایک بندۂ مجبور کی یہی ہیں حدود
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.