Font by Mehr Nastaliq Web

میں پچھلے سال ان دنوں شھرِ نبی میں تھا

عاصی کرنالی

میں پچھلے سال ان دنوں شھرِ نبی میں تھا

عاصی کرنالی

MORE BYعاصی کرنالی

    میں پچھلے سال ان دنوں شھرِ نبی میں تھا

    قدموں میں تھا حضور میں تھا حاضری میں تھا

    خوباں کے کوچہ ہائے ملامت سے دور تو

    محبوبِ کبریا کی مقدس گلی میں تھا

    از جسم تا بہ جانم و از چہرہ تابہ دل

    دن رات اک برستی ہوئی روشنی میں تھا

    چھوتی تھی ان کے گنبدِ خضریٰ کو چاندنی

    اور میں براہِ راست اسی چاندنی میں تھا

    ساری بہار سمٹی ہوئی تھی نگاہ میں

    سارا چمن بھرا ہوا دل کی کلی میں تھا

    میری جبیں تھی فرشِ مصلیٰ پہ سجدہ ریز

    اللہ یہ شرف بھی مری زندگی میں تھا

    ہوتا نہ کیوں میں داخلِ جنہ کہ جیتے جی

    باغِ بہشت دسترسِ آدمی میں تھا

    اللہ رے ان کے لطف کی مہماں نوازیاں

    مصروف ہر گھڑی مری دل بستگی میں تھا

    پیتی تھی روح بادۂ عشقِ نبی کے جام

    اک سانس سرخوشی میں تھا اک بے خودی میں تھا

    یکسر وہاں بدل گئی ماہیتِ الم

    آنسو جو سطحِ چشم پہ آیا خوشی میں تھا

    اللہ بھی قریب تھا سرکار بھی قریب

    لذت سجود میں تھی مزا بندگی میں تھا

    اب تم کو کیا بتاؤں میں کس کیفیت میں ہوں

    میں پچھلے سال ان دنوں شہرِ نبی میں تھا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے