Font by Mehr Nastaliq Web

جب مسافر کے قدم رک جائیں ہمت ٹوٹ جائے

عاصی کرنالی

جب مسافر کے قدم رک جائیں ہمت ٹوٹ جائے

عاصی کرنالی

MORE BYعاصی کرنالی

    جب مسافر کے قدم رک جائیں ہمت ٹوٹ جائے

    منزل امید پر آ کر صدا دیتا ہے کون

    کس کاپا کر اذانِ طوفانوں کے رکتے ہیں قدم

    ڈوبتی کشتی کو ساحل سے لگا دیتا ہے کون

    جس کے دریا میں سفینوں کی طرح رہتے ہیں ہم

    ہاں! اسی نادیده قوت کو خدا کہتے ہیں ہم

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے