Font by Mehr Nastaliq Web

دعا ہے یہ شام و سحر شاہ قاتل

آصف علی دہلوی

دعا ہے یہ شام و سحر شاہ قاتل

آصف علی دہلوی

MORE BYآصف علی دہلوی

    دلچسپ معلومات

    نوٹ: یہ مشاعرہ حضرت قاتلؔ اجمیری کے عرس کی مناسبت سے عیدگاہ میدان، بندر روڈ، کراچی میں منعقد ہوا تھا، اس مشاعرے کی صدارت بہزادؔ لکھنوی نے فرمائی تھی، جبکہ مصرعِ طرح ’’تمہیں ڈھونڈتی ہے نظر شاہِ قاتل‘‘ مقرر کیا گیا تھا۔

    دعا ہے یہ شام و سحر شاہ قاتل

    مرا سر ہو اور تیرا در شاہ قاتل

    تری یاد میں تیری فرقت میں ہر دم

    ہیں بیتاب قلب و جگر شاہ قاتل

    بہر سمت پھرتی ہیں مایوس نظریں

    کہیں سے تو ہو جلوہ گر شاہ قاتل

    دکھا دے جھلک ایک ادنیٰ سی آکر

    لگی ہے نظر سوئے درشاہ قاتل

    یہی اب تو لے دے کے ہے اک تمنا

    ترا در بنے میرا گھر شاہ قاتل

    دعا کر کہ مشکل ہو آسان اس کی

    کہ آصفؔ ہے خستہ جگر شاہ قاتل

    مأخذ :
    • کتاب : Gulha-e-Aqidat (Pg. 43)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے