دعا ہے یہ شام و سحر شاہ قاتل
دلچسپ معلومات
نوٹ: یہ مشاعرہ حضرت قاتلؔ اجمیری کے عرس کی مناسبت سے عیدگاہ میدان، بندر روڈ، کراچی میں منعقد ہوا تھا، اس مشاعرے کی صدارت بہزادؔ لکھنوی نے فرمائی تھی، جبکہ مصرعِ طرح ’’تمہیں ڈھونڈتی ہے نظر شاہِ قاتل‘‘ مقرر کیا گیا تھا۔
دعا ہے یہ شام و سحر شاہ قاتل
مرا سر ہو اور تیرا در شاہ قاتل
تری یاد میں تیری فرقت میں ہر دم
ہیں بیتاب قلب و جگر شاہ قاتل
بہر سمت پھرتی ہیں مایوس نظریں
کہیں سے تو ہو جلوہ گر شاہ قاتل
دکھا دے جھلک ایک ادنیٰ سی آکر
لگی ہے نظر سوئے درشاہ قاتل
یہی اب تو لے دے کے ہے اک تمنا
ترا در بنے میرا گھر شاہ قاتل
دعا کر کہ مشکل ہو آسان اس کی
کہ آصفؔ ہے خستہ جگر شاہ قاتل
- کتاب : Gulha-e-Aqidat (Pg. 43)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.