وه شب و روز وہ پر نور زمانے ڈھونڈنے
وه شب و روز وہ پر نور زمانے ڈھونڈنے
دل پھر اس در پہ پہنچنے کے بہانے ڈھونڈے
ان کے قدموں میں جو اک خواب کی صورت گذرے
چشمِ پُر نم وہی لمحات سحانے ڈھونڈے
کون سے دل سے کوئی باب حرم سے اٹھتا
عذر کیا کیا نہ مری لغزشِ پا نے ڈھونڈے
پھر کسی سمت نہیں آنکھ اٹھا کر دیکھا
آپ کے نقشِ قدم جب سے صبا نے ڈھونڈے
دائمی آپ کے اصحاب کی قربت ٹهہری
جاں بحق ہو کے بھی پہلو میں ٹھکانے ڈھونڈے
کیوں نہ اڑتا ہوا جائے سوئے طیبہ عاصمؔ
کیوں نئے دور میں اسباب پرانے ڈھونڈے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.