انہی کے لطف سے ہے جوش پر قلزم ندامت کا
انہی کے لطف سے ہے جوش پر قلزم ندامت کا
انہی کے فیض سے چھلکی ہے میری چشمِ تر یا رب
جہاں پر سائلوں کی ہر دعا مقبول ہوتی ہے
زہے قسمت نگاہوں میں ہے وہ بابِ اثر یا رب
میسر ہو جسے اک بار ان کی آستان بوسی
کسی بھی آستان پر پھر نہیں جھکتا وہ سر یا رب
مدینے سے میں آیا ہوں یہی اک آرزو لے کر
کہ پہنچوں بارگاہِ ناز میں بارِ دگر یا رب
رہے عاصمؔ! تیرے محبوب کے دامن سے وابستہ
نہ غم دنیا کا ہو اس کو نہ محشر کا خطر یا رب
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.