Font by Mehr Nastaliq Web

اشک آنکھوں سے رواں آواز بھرائی ہوئی

عاصم گیلانی

اشک آنکھوں سے رواں آواز بھرائی ہوئی

عاصم گیلانی

MORE BYعاصم گیلانی

    اشک آنکھوں سے رواں آواز بھرائی ہوئی

    اللہ اللہ ان کے در پر کیا پذیرائی ہوئی

    التجا آمیز نظروں سے انہیں دیکھا کیا

    بِن کہے اس آستان پر میری شنوائی ہوئی

    آپ کے غم کے علاوہ کوئی بھی اپنا نہ تھا

    چھوڑ کر چلتا بنا جس سے شناسائی ہوئی

    آپ کی چشمِ کرم کی منتظر ہے یا نبی

    تک رہی ہے سوئے طیبہ خلق گھبرائی ہوئی

    نور کے پیکر میں ڈھل کر آ گئی یادِ حضور

    آخرِ شب شہرِ دل میں محفل آرائی ہوئی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے