اشک آنکھوں سے رواں آواز بھرائی ہوئی
اشک آنکھوں سے رواں آواز بھرائی ہوئی
اللہ اللہ ان کے در پر کیا پذیرائی ہوئی
التجا آمیز نظروں سے انہیں دیکھا کیا
بِن کہے اس آستان پر میری شنوائی ہوئی
آپ کے غم کے علاوہ کوئی بھی اپنا نہ تھا
چھوڑ کر چلتا بنا جس سے شناسائی ہوئی
آپ کی چشمِ کرم کی منتظر ہے یا نبی
تک رہی ہے سوئے طیبہ خلق گھبرائی ہوئی
نور کے پیکر میں ڈھل کر آ گئی یادِ حضور
آخرِ شب شہرِ دل میں محفل آرائی ہوئی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.