ان کی رضا پہ ہم بھی رضامند ہو گئے
ان کی رضا پہ ہم بھی رضامند ہو گئے
مقبولِ بارگاهِ خداوند ہو گئے
امڈا جو سیلِ اشک تو پلکوں کو سی لیا
گویا گہر صدف میں نظر بند ہو گئے
آزاد ہو گئے غمِ روزِ حساب سے
جو لوگ ان کے لطف کے پابند ہو گئے
سارے جہاں کے درد سمٹ کر بصد نیاز
ان کی قبائے پاک کے پیوند ہو گئے
اس آستانِ پاک کا اللہ رے فیضِ عام
جو دل زدہ بھی آ گئے خورسند ہو گئے
آقا کے در سے ان کو ملی منزلِ مراد
جن پر نشاطِ زیست کے در بند ہو گئے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.