Font by Mehr Nastaliq Web

ان کی رضا پہ ہم بھی رضامند ہو گئے

عاصم گیلانی

ان کی رضا پہ ہم بھی رضامند ہو گئے

عاصم گیلانی

MORE BYعاصم گیلانی

    ان کی رضا پہ ہم بھی رضامند ہو گئے

    مقبولِ بارگاهِ خداوند ہو گئے

    امڈا جو سیلِ اشک تو پلکوں کو سی لیا

    گویا گہر صدف میں نظر بند ہو گئے

    آزاد ہو گئے غمِ روزِ حساب سے

    جو لوگ ان کے لطف کے پابند ہو گئے

    سارے جہاں کے درد سمٹ کر بصد نیاز

    ان کی قبائے پاک کے پیوند ہو گئے

    اس آستانِ پاک کا اللہ رے فیضِ عام

    جو دل زدہ بھی آ گئے خورسند ہو گئے

    آقا کے در سے ان کو ملی منزلِ مراد

    جن پر نشاطِ زیست کے در بند ہو گئے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے