مرے حاجت روا مولیٰ علی ہیں
دلچسپ معلومات
منقبت در شان حضرت علی مرتضیٰ (نجف۔عراق)
مرے حاجت روا مولیٰ علی ہیں
مرے مشکل کشا مولیٰ علی ہیں
خدا نے جن کو تیغِ لافتا دی
وہی شیرِ خدا مولیٰ علی ہیں
علی کی دید دیدِ مصطفیٰ ہے
کہ نور مصطفیٰ مولیٰ علی ہیں
تلاطم کا مری کشتی کو کیا ڈر
کہ اس کے ناخدا مولیٰ علی ہیں
نہ کیوں سجدے کروں میں ان کے در پر
کہ جانِ اؤلیا مولیٰ علی ہیں
ولی ہو غوث ہو قطبِ جہاں ہو
ہر اک کے پیشوا مولیٰ علی ہیں
زمانہ کیوں نہ ان کے گیت گائے
کہ سب کا مدعا مولیٰ علی ہیں
میں کیوں غیروں کے در پر جاؤں اعظمؔ
مرے دکھ کی دوا مولیٰ علی ہیں
- کتاب : کلیاتِ اعظم چشتی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.