جہاں ابرِ کرم دن رات برسے
جہاں ابرِ کرم دن رات برسے
وہاں کیوں کوئی تشنہ کام ترسے
ہے تیری سب کشش اے شہرِ طیبہ
وجودِ طیبِ خیرالبشر سے
فضا تیری اسی کے دم سے معمور
دعاؤں سے دعاؤں کے اثر سے
اسی سے کعبۂ عشاق ہے تو
نہ لوٹا کوئی خالی جن کے در سے
ہیں عثمان و علی سے اس کے ہمدم
ندیم اس کے ابو بکر و عمر سے
مواجہہ سے بہ چشمِ تر جو گزرا
تو دیکھا کِس تلطف کی نظر سے
یہاں سے کسی کا جی جانے کو چاہے
خوشی سے ہو جدا کون اپنے گھر سے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.