نہ مرنے کا غم ہے نہ جینے کی خواہش
نہ مرنے کا غم ہے نہ جینے کی خواہش
مدینے کا غم ہے مدینے کی خواہش
فدا تجھ پہ ہوجائیں تیرے فدائی
یہ خواہش ہے کہیے قرینے کی خواہش
مدینے میں رہنے کی حسرت ہے دل میں
مدینے میں ہے مرنے جینے کی خواہش
اب حوضِ کوثر ہے مستون کا میلہ
امنگوں پہ ہے آج پینے کی خواہش
سفر سوائے طیبہ ہو جس میں ہمارا
ہے اُس سال کی اس مہینے کی خواہش
مدینے میں جا کر نہ آنا ہو یا رب
ہو اس طرح پوری مدینے کی خواہش
مدینے پہنچ کر مدینے میں رہ کر
وہ مرنے کا ارماں وہ جینے کی خواہش
مبارک ہو رضواں تجھے عطرِ جنت
ہمیں ہے نبی کے پسینے کی خواہش
رہے دل میں حامدؔ کے یا رب ہمیشہ
مدینے کی خواہش مدینے کی خواہش
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.