طریقت کے شمس و قمر شاہ قاتل
دلچسپ معلومات
نوٹ: یہ مشاعرہ حضرت قاتلؔ اجمیری کے عرس کی مناسبت سے عیدگاہ میدان، بندر روڈ، کراچی میں منعقد ہوا تھا، اس مشاعرے کی صدارت بہزادؔ لکھنوی نے فرمائی تھی، جبکہ مصرعِ طرح ’’تمہیں ڈھونڈتی ہے نظر شاہِ قاتل‘‘ مقرر کیا گیا تھا۔
طریقت کے شمس و قمر شاہ قاتل
شہ دیں شہ بحرو بر شاہ قاتل
مشرف ہوں انوار تاباں سے آنکھیں
عطا ہو مجھے وہ نظر شاہ قاتل
فرشتوں کو ہے رشک میری جبیں پر
ملا ہے مجھے سنگ در شاہ قاتل
قیامت میں کافی ہے دامن تمہارا
مجھے کیا ہے خوف و خطر شاہ قاتل
کریمؔ اب تو اپنا یہی مشغلہ ہے
وظیفہ ہے شام و سحر شاہ قاتل
- کتاب : Gulha-e-Aqidat (Pg. 47)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.