اک نگاهِ لطف مجھ عاصی کو آقا چاہیے
اک نگاهِ لطف مجھ عاصی کو آقا چاہیے
ہو گیا جب لطف تیرا اور پھر کیا چاہیے
پیکر عصیاں تو ہوں لیکن نہیں ہوں نا امید
رحمتہ اللعالمین بس رحم تیرا چاہیے
کب خدا راضی ہوا ہے جز رضائے مصطفیٰ
مصطفیٰ کے در پر آ گر فضل رب کا چاہیے
عاجزانہ جس جگہ آتے تھے جبریلِ امیں
سوئے طیبہ با ادب با ہوش جانا چاہیے
آرزو راسخؔ تری محدود رحمت بے حساب
اپنا دامن خوب پھیلا تجھ کو کتنا چاہیے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.