Font by Mehr Nastaliq Web

اک نگاهِ لطف مجھ عاصی کو آقا چاہیے

عبدالرؤف راسخؔ

اک نگاهِ لطف مجھ عاصی کو آقا چاہیے

عبدالرؤف راسخؔ

MORE BYعبدالرؤف راسخؔ

    اک نگاهِ لطف مجھ عاصی کو آقا چاہیے

    ہو گیا جب لطف تیرا اور پھر کیا چاہیے

    پیکر عصیاں تو ہوں لیکن نہیں ہوں نا امید

    رحمتہ اللعالمین بس رحم تیرا چاہیے

    کب خدا راضی ہوا ہے جز رضائے مصطفیٰ

    مصطفیٰ کے در پر آ گر فضل رب کا چاہیے

    عاجزانہ جس جگہ آتے تھے جبریلِ امیں

    سوئے طیبہ با ادب با ہوش جانا چاہیے

    آرزو راسخؔ تری محدود رحمت بے حساب

    اپنا دامن خوب پھیلا تجھ کو کتنا چاہیے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے