Font by Mehr Nastaliq Web

سمایا ہے جو آنکھوں میں سراپا شاہِ قاتل کا

عبداللہ احمدآبادی

سمایا ہے جو آنکھوں میں سراپا شاہِ قاتل کا

عبداللہ احمدآبادی

MORE BYعبداللہ احمدآبادی

    دلچسپ معلومات

    نوٹ: حضرت قاتلؔ اجمیری کے چہلم کے موقع پر عیدگاہ میدان، بندر روڈ، کراچی میں ضیاؤالقادری بدایونی کی صدارت میں ایک طرحی مشاعرہ منعقد ہوا، جس کے لیے مصرعِ طرح ’’مریدوں کے لیے کعبہ ہے روضہ شاہِ قاتل کا‘‘ سیمابؔ اکبرآبادی نے اپنے زمانۂ علالت میں پیش کیا۔

    سمایا ہے جو آنکھوں میں سراپا شاہِ قاتل کا

    نظر آتا ہے ہر جلوہ میں جلوہ شاہِ قاتل کا

    مجھے کیوں خوفِ عصیاں ہو کہ پیش داورِ محشر

    یہ کیا کم ہے قیامت میں سہرا شاہِ قاتل کا

    یہی ہے اک تمنا اور یہی ہے آرزو دل کی

    خدا دکھلائے اور دیکھوں میں روضہ شاہِ قاتل کا

    یہ عبداللہؔ بھی اک خادمِ دربار عالی ہے

    شرف رکھتا ہے شاہوں پر یہ بر دہ شاہِ قاتل کا

    مأخذ :
    • کتاب : Gulha-e-Aqidat (Pg. 28)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے