مقدر جگمگایا والیٔ بطحیٰ کی چوکھٹ پر
مقدر جگمگایا والیٔ بطحیٰ کی چوکھٹ پر
نصیبوں میں لکھی تھی حاضری آقا کی چوکھٹ پر
چلو پڑھ لیں نماز عشق او ادنیٰ کی چوکھٹ پر
جو رحمت بانٹتے رہتے ہیں اس ملجا کی چوکھٹ پر
مہکتے ہیں زمیں و آسماں ہر دم مدینے میں
بہاریں جھومتی ہیں ہر گھڑی آقا کی چوکھٹ پر
ہوا تحریر اس ماتھے پہ حرفِ مژدۂ بخشش
رہا در بوس جو اس شاہِ بے ہمتا کی چوکھٹ پر
بدن ٹوٹے، بخار آئے، جھنجھوڑے یاد کا لرزہ
بس اتنا ہو کہ پاؤں خود کو میں آقا کی چوکھٹ پر
اگر میں جاگتے میں دور ہوں سرکار کے در سے
تو پھر سویا رہوں میں حشر تک مولیٰ کی چوکھٹ پر
درِ محبوب پر سجدے کی ٹھنڈک مانگنے والو
انہی کو ان سے مانگو سیدِ یکتا کی چوکھٹ پر
کوئی دیکھے ذرا ہے دم بخود ہر دم سلامی میں
ہجومِ نوریاں حسنین کے نانا کی چوکھٹ پر
عزیزؔ ناتواں کو لے چلو یارو دمِ آخر
حبیب کبریا صلِ علیٰ مولیٰ کی چوکھٹ پر
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.