جس نے دیکھی ہے نبی کے سنگِ در کی روشنی
جس نے دیکھی ہے نبی کے سنگِ در کی روشنی
ہیچ ہے اس کے لیے لعل و گہر کی روشنی
ہو نظر میں روضۂ خیرالبشر کی روشنی
پھر کہاں انجم؟ کہاں شمس و قمر کی روشنی
ہے ازل سے تا ابد روشن یہ قندیلِ ہدیٰ
بے حدِ عصر و مکاں اس بام و در کی روشنی
کارواں کو اب کسی مشعل کی بھی حاجت نہیں
منزلوں پر پڑ رہی ہے، راہبر کی روشنی
امیوں میں، علم و دانش کا ہوا روشن چراغ
شمعِ حکمت تا ابد اتی بشر کی روشنی
اسوۂ تاباں ہے اس کا مشعل راہِ نجات
رہبرِ منزل ہے اس کی رہ گزر کی روشنی
مصلح و مصباح و نور و السراج و المنير
رحمتہ للعالمیں خیرالبشر کی روشنی
يا محمد ہدیۂ دردِ محبت ہو قبول
نذر ہیں گلہائے دل زخمِ جگر کی روشنی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.