Font by Mehr Nastaliq Web

آؤ ہم سب مل کے بیٹھیں پیار کی باتیں کریں

ادیب لکھنوی

آؤ ہم سب مل کے بیٹھیں پیار کی باتیں کریں

ادیب لکھنوی

MORE BYادیب لکھنوی

    آؤ ہم سب مل کے بیٹھیں پیار کی باتیں کریں

    کچھ عرب میں پریم کے اوتار کی باتیں کریں

    فخرِ آدم احمد مختار کی باتیں کریں

    دو جہاں کے سرور و سردار کی باتیں کریں

    پریم کی گنگا بہائی جس نے ریگستان میں

    روح تازہ پھونک دی مٹتے ہوئے ایمان میں

    وہ صداقت کا علمبردار وحدت کا خطیب

    ظاہر و باطن کے سب انوار تھے جس کے قریب

    انبیا پر برتری کا تھا شرف جس کو نصیب

    وہ خدائے پاک و برتر نے کہا جس کو حبیب

    دم قدم سے جس کے حق کا بول بالا ہوگیا

    نورِ وحدت ہر طرف پھیلا اجالا ہوگیا

    تھی رسولِ پاک سے پہلے جہالت چار سو

    بھائی بھائی میں بھی تھی رسمِ عداوت چار سو

    تھا عرب کی سرزمیں پر دورِ ظلمت چار سو

    معجزہ کس کا تھا جو پھیلی اخوت چار سو

    ہر طرف آنے لگی اللہ اکبر کی صدا

    حمدِ خالق کی صدا نعتِ پیمبر کی صدا

    درد تو بے انتہا تھے کوئی چارہ گر نہ تھا

    دائروں پر تھی نظر دل ایک مرکز پر نہ تھا

    بت کدہ تھا خانہ کعبہ خدا کا گھر نہ تھا

    تھے ہزاروں خوف خوفِ داورِ محشر نہ تھا

    آپ کو اللہ نے بھیجا ہدایت کے لیے

    ہوگیا سامان ملت کی شفاعت کے لیے

    جانور کی طرح سمجھے جاتے تھے پہلے غلام

    باتوں باتوں میں ہوا کرتی تھیں تیغیں بے نیام

    لڑکیوں کا قتل کر دینا بھی تھی اک رسمِ عام

    خاندانوں میں لیا جاتا تھا صدیوں انتقام

    شاعری تھی جوشِ وحشت کو بڑھانے کے لیے

    درس کوئی بھی نہ تھا لیکن زمانے کے لیے

    خاندانوں کے الگ تھے اپنے اپنے دیوتا

    ان سے بھی اکثر ہوا کرتا تھا ساماں جنگ کا

    تھے خدا کے گھر میں بھی بت اور کا تو ذکر کیا

    کان میں آتی نہ تھی اللہ اکبر کی صدا

    دفعتاً گونجا زمانہ نعرۂ توحید سے

    نا امیدی کفر ٹھہری، دل بھرے امید سے

    آرزو بر آئی ابراہیم و اسمٰعیل کی

    از سر نو دین حق کی آپ نے تشکیل کی

    بت ہٹائے حکمِ حق کی آپ نے تعمیل کی

    آخری پیغام لائے دین کی تکمیل کی

    جس نے ایذا دی کیے اس پر بھی احساں آپ نے

    رفتہ رفتہ کر لیا اس کو مسلماں آپ نے

    آپ کا دل تھا کہ تھا آئینہ صدق و صفا

    انتہائے نورِ اقدس تھی کہ سایہ نور کا

    اے شفیع روزِ محشر اے حبیبِ کبریا

    اس جہانِ آب و گل میں پیکرِ نورِ خدا

    جانتا ہوں میں کہ ادنیٰ ہوں سیہ کاروں میں ہوں

    آپ کی چشم عنایت کے طلب گاروں میں ہوں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے