علی مرتضی سر چشمۂ اسرارِ عرفانی
علی مرتضی سر چشمۂ اسرارِ عرفانی
وہ جس کے ہر عمل ہر قول میں قرآں کی تفسیریں
شبِ ہجرت میں اطمینان کی وہ نیند سویا ہے
زمانہ رات بھر جس کی سنا کرتا تھا تکبیریں
جہاں پر جو کیا وہ بر محل تھا اور مناسب تھا
کہ جیسے جنبش مژگاں سے وابستہ ہوں تقدیریں
کبھی وہ لرزہ بر اندام محرابِ عبادت میں
کبھی دنیا میں ہلچل ڈالتی تھیں ان کی تکبیریں
نہ شانِ قیصر و کسریٰ نہ بو سرمایہ داری کی
خلوصِ طینتِ اسلام کی بٹتی تھیں جاگیریں
مری امید کے مرکز تری چوکھٹ وہ چوکھٹ ہے
کہ جس چوکھٹ پہ سجدوں سے بدل جاتی ہیں تقدیریں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.