Font by Mehr Nastaliq Web

آنکھوں نے شہر نور کے منظر لیے سمیٹ

عدنان حسن راز

آنکھوں نے شہر نور کے منظر لیے سمیٹ

عدنان حسن راز

MORE BYعدنان حسن راز

    آنکھوں نے شہر نور کے منظر لیے سمیٹ

    جا کر مدینے پاک میں گوہر لیے سمیٹ

    دربار مصطفیٰ کی ہے ہر چیز بےمثال

    پلکوں نے شہرِ یار کے کنکر لیے سمیٹ

    قطرہ ملا جو ساقئِ کوثر کے جام کا

    سب مے کشوں نے اپنے ہی ساغر لیے سمیٹ

    آئے گا پھر بلاوہ مجھے طیبہ سے ضرور

    اس آس پر امید نے بستر لیے سمیٹ

    اس در کو چھوڑ کر بھلا جاؤں میں اب کہاں

    دن زندگی کے تھے جو وہ اکثر لیے سمیٹ

    ہم تو کھڑے ہیں روضۂ اطہر کے سامنے

    کشتی کے ناخدا نے تو لنگر لیے سمیٹ

    اے راز لکھ چمکتی سی اک اور نعتِ شاہ

    شاعر نے شاعری کے تو دفتر لیے سمیٹ

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے