آنکھوں نے شہر نور کے منظر لیے سمیٹ
آنکھوں نے شہر نور کے منظر لیے سمیٹ
جا کر مدینے پاک میں گوہر لیے سمیٹ
دربار مصطفیٰ کی ہے ہر چیز بےمثال
پلکوں نے شہرِ یار کے کنکر لیے سمیٹ
قطرہ ملا جو ساقئِ کوثر کے جام کا
سب مے کشوں نے اپنے ہی ساغر لیے سمیٹ
آئے گا پھر بلاوہ مجھے طیبہ سے ضرور
اس آس پر امید نے بستر لیے سمیٹ
اس در کو چھوڑ کر بھلا جاؤں میں اب کہاں
دن زندگی کے تھے جو وہ اکثر لیے سمیٹ
ہم تو کھڑے ہیں روضۂ اطہر کے سامنے
کشتی کے ناخدا نے تو لنگر لیے سمیٹ
اے راز لکھ چمکتی سی اک اور نعتِ شاہ
شاعر نے شاعری کے تو دفتر لیے سمیٹ
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.