Font by Mehr Nastaliq Web

اور کیا ہے جو مجھے اس کے سوا درکار ہے

آغا سائل کشمیری

اور کیا ہے جو مجھے اس کے سوا درکار ہے

آغا سائل کشمیری

MORE BYآغا سائل کشمیری

    اور کیا ہے جو مجھے اس کے سوا درکار ہے

    بس تمہارا سایۂ رحمت سدا درکار ہے

    عرصۂ ہستی میں اک بھٹکا ہوا انساں ہوں میں

    راہِ گم کردہ کو منزل کا پتہ درکار ہے

    قلب کو عزمِ جواں دے اور غم کو حوصلہ

    زندگی میں مجھ کو تیرا آسرا درکار ہے

    بات یہ کیا کم ہے جو میں ہوں محمد کا غلام

    اس سے بڑھ کر مجھ کو یا رب اور کیا درکار ہے

    کاش باقی زندگی میری مدینے میں کٹے

    اب میرے دل کو مدینے کی فضا درکار ہے

    تیرے در کی بھیک اس کے واسطے تاجِ شہی

    تیرے سائلؔ کو فقط صدقہ ترا درکار ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے