اور کیا ہے جو مجھے اس کے سوا درکار ہے
اور کیا ہے جو مجھے اس کے سوا درکار ہے
بس تمہارا سایۂ رحمت سدا درکار ہے
عرصۂ ہستی میں اک بھٹکا ہوا انساں ہوں میں
راہِ گم کردہ کو منزل کا پتہ درکار ہے
قلب کو عزمِ جواں دے اور غم کو حوصلہ
زندگی میں مجھ کو تیرا آسرا درکار ہے
بات یہ کیا کم ہے جو میں ہوں محمد کا غلام
اس سے بڑھ کر مجھ کو یا رب اور کیا درکار ہے
کاش باقی زندگی میری مدینے میں کٹے
اب میرے دل کو مدینے کی فضا درکار ہے
تیرے در کی بھیک اس کے واسطے تاجِ شہی
تیرے سائلؔ کو فقط صدقہ ترا درکار ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.