Font by Mehr Nastaliq Web

میرے آقا آؤ کہ مدت ہوئی ہے تیری راہ میں اکھیاں بچھاتے بچھاتے

احمد علی حاکمؔ

میرے آقا آؤ کہ مدت ہوئی ہے تیری راہ میں اکھیاں بچھاتے بچھاتے

احمد علی حاکمؔ

MORE BYاحمد علی حاکمؔ

    میرے آقا آؤ کہ مدت ہوئی ہے تیری راہ میں اکھیاں بچھاتے بچھاتے

    تیری حسرتوں میں تیری چاہتوں میں بڑے دن ہوئے گھر سجاتے سجاتے

    میرا یہ ہے ایماں یہ میرا یقیں ہے میرے مصطفیٰ سا نہ کوئی حسیں ہے

    کہ رخ ان کا دیکھا ہے جب سے قمر نے نکلتا ہے منہ کو چھپاتے چھپاتے

    قیامت کا منظر بڑا پر خطر ہے مگر مصطفیٰ کا جو دیوانہ ہوگا

    وہ پل پے گزرے گا مسرور ہو کے نعرہ نبی کا لگاتے لگاتے

    میرے لب پے مولیٰ نہ کوئی صدا ہے فقط مجھ نکمے کی یہ ہی دعا ہے

    میری سانس نکلے در مصطفیٰ پے غم دل نبی کو سناتے سناتے

    یہ دل جب سے عشق نبی میں پڑا ہے نہ دن کی خبر ہے نہ شب کا پتہ ہے

    آقا اب تو بصارت بھی کم ہو گئی ہے تیرے غم میں آنسو بھاتے بھاتے

    یہ ماناکہ اک دن آنی قضا ہے مگر دوستو تم سے یہ التجا ہے

    کہ شہر محمد کی ہر اک گلی سے جنازہ اٹھانا گھماتے گھماتے

    نہ کعبے سے مطلب نہ مسجد کی چاہت فقط دل میں حاکمؔ تمنا یہی ہے

    جو مل جائے نقش کف پائے احمد تو مر جائیں سر کو جھکاتے جھکاتے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے