Font by Mehr Nastaliq Web

اتنا کافی ہے زندگی کے لیے

احمد علی حاکمؔ

اتنا کافی ہے زندگی کے لیے

احمد علی حاکمؔ

MORE BYاحمد علی حاکمؔ

    اتنا کافی ہے زندگی کے لیے

    رکھ لیں آقا جو نوکری کے لیے

    تک کے ان کے ایوب کے گھر میں

    محل ترستے ہیں جھونپڑی کے لیے

    آگئے قبر میں بھی چھڑوانے

    درد کتنا ہے امتی کے لیے

    لمبے سجدے کیے نبی نے کہاں

    اَے نواسے تری خوشی کے لیے

    ماہ و خورشید ان کی چو کھٹ پر

    روز آتے ہیں روشنی کے لیے

    خاکِ طیبہ میں حسن پنہاں ہے

    لوگ ملتے ہیں دلکشی کے لیے

    دید مانگی ہے ان سے حاکمؔ

    میں نے بس وقت آخری کے لیے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے