اتنا کافی ہے زندگی کے لیے
اتنا کافی ہے زندگی کے لیے
رکھ لیں آقا جو نوکری کے لیے
تک کے ان کے ایوب کے گھر میں
محل ترستے ہیں جھونپڑی کے لیے
آگئے قبر میں بھی چھڑوانے
درد کتنا ہے امتی کے لیے
لمبے سجدے کیے نبی نے کہاں
اَے نواسے تری خوشی کے لیے
ماہ و خورشید ان کی چو کھٹ پر
روز آتے ہیں روشنی کے لیے
خاکِ طیبہ میں حسن پنہاں ہے
لوگ ملتے ہیں دلکشی کے لیے
دید مانگی ہے ان سے حاکمؔ
میں نے بس وقت آخری کے لیے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.