وہ آگئے ہیں کریم بنکر نصیب سب کے سنورے گئے ہیں
وہ آگئے ہیں کریم بنکر نصیب سب کے سنورے گئے ہیں
یہ نغمے صلِ علیٰ کے دیکھو فضا میں ہر سو بکھر گئے ہیں
یہ چاند امبر سے کہہ رہا ہے کہ ناز کر تا تھا خود پہ لیکن
وہ جب سے دیکھا ہے نوری چہرہ خمار سارے اتر گئے ہیں
یہ پھول کلیاں یہ چاند تارے جناب یوسف بھی یا محمد
تمہارے کوچے میں جو نہی پہنچے تو سر جھکا کے گذر گئے ہیں
یہ چاند کہتا ہے سعدیہ سے گواہ رہنا کہ تیرے گھر میں
جدھر اٹھائی انہوں نے انگلی تو ہم بھی چل کر ادھر گئے ہیں
وہی ہیں عابد وہی ہیں زاہد نماز ان کی قبول ہوگی
جو بندے اپنے نبی کے در پہ سدا جھکانے کو سر گئے ہیں
سنا ہے جب سے یہ میں نے حاکمؔ کے بعد مرنے کے وہ ملیں گے
تو روز کرتا ہوں رشک ان پر جو ان کی الفت میں مر گئے ہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.