میری آنکھوں کو مدینے کا نظارا دے دے
کچھ نہیں مانگتا میں مولیٰ تیری ہستی سے
میری آنکھوں کو مدینے کا نظارا دے دے
کب تمنا کوئی میں اس کے سوا کرتا ہوں
میں تو دن رات یہ مولیٰ سے دعا کرتا ہوں
گزری طیبہ میں جو زندگی ہے دوبارہ دے دے
نام سرکار پہ بک جانے کو جی چاہتا ہے
پھر نہیں فکر کہ ہاتھوں کیا آتا ہے
تیری مرضی سے نفع دے یا خسارا دے دے
میں نہیں کہتا یہ ہر صاحبِ نظر کہتا ہے
فلک پہ آئے ہوئے بات قمر کہتا ہے
پھر سے اقا مجھے انگلی کا اشارہ دے دے
اپنا جنت میں وہ جس وقت ٹھکانہ ہوگا
پا کے جنت کو بھی لب پر یہ ترانہ ہوگا
مولیٰ جو طیبہ میں زندگی تھی دوبارہ دے دے
یہ جہاں اس کو حقیقت میں پھر نہ رولے گا
مجھ کو سمجھاؤ بھلا کیسے پھر وہ ڈولے گا
جس کو حسنین کا خود نانا سہارا دے دے
آئے ہیں جتنے دیوانے تیری چاہت لے کے
بیٹھے ہیں دل میں یہ آقا تری الفت لے کے
دے دے دیدار انہیں اب تو خدارا دے دے
اپنی پلکوں کو ہے راہوں میں بچھایا میں نے
اپنی کٹیا کو بھی دلہن ہے بنا یا میں نے
میری ڈوبی ہوئی نیا کو کنارہ دےدے
اپنا دل اپنا جگر اپنی یہ آنکھیں حاکم
اپنی یہ جاں ارے اپنی یہ سانسیں حاکمؔ
جتنا سامان ہے سرکار کو سارا دے دے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.