یادِ نبی کو دِل سے نکالا نہ جائے گا
یادِ نبی کو دل سے نکالا نہ جائے گا
سینے میں درد غیر کا پالا نہ جائے گا
تب تک نہ جائے گا کوئی جنت میں دوستو
جب تک بلال رنگ کا کالا نہ جائے گا
سرِ حشر جب اٹھائیں گے چہرے سے وہ نقاب
یوسف سے بھی پھر ہوش سنبھالا نہ جائے گا
کھاتا ہے جو حضور کے لنگر کو شوق سے
غیروں کا اس کے منہ میں نوالا نہ جائے گا
سارے جہاں کی ٹالے گا روزِ حشر خدا
لیکن کہا حضور کا ٹالا نہ جائے گا
مل جائے گر نصیب سے خاکِ پائے رسول
پھر سرمہ کوئی آنکھ میں ڈالا نہ جائے گا
حاکمؔ کہوں گا قبر میں میں ہوں حضور کا
جز اس کے دیا اور حوالہ نہ جائے گا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.