یہ دنیا ایک سمندر ہے مگر ساحل مدینہ ہے
یہ دنیا ایک سمندر ہے مگر ساحل مدینہ ہے
ہر اک موجِ بلا کی راہ میں حائل مدینہ ہے
زمانہ دھوپ ہے اور چھاؤں ایک بستی ہے
یہ دنیا جل کے بجھ جاتی مگر شامل مدینہ ہے
شرف مجھ کو بھی حاصل ہے محمد کی غلامی کا
وہ میرے دل میں رہتے ہیں مرا بھی دل مدینہ ہے
مدینے کے مسافر تجھ پہ میری جان و دل قرباں
تری آنکھیں بتاتی ہیں تری منزل مدینہ ہے
کرم کتنا ہوا ہے حاکمؔ آقا کا مجھ پر
میں اتنی دور ہوں لیکن مجھے حاصل مدینہ ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.