جہاں نظرِ محمد کا نشانہ ٹھہر جاتا ہے
جہاں نظرِ محمد کا نشانہ ٹھہر جاتا ہے
وہیں چلتا ہوا سارا زمانہ ٹھہر جاتا ہے
گواہ ہے مسجدِ نبوی کی دیواریں کہ سجدہ میں
جو شانوں پر نواسہ ہو تو نانا ٹھہر جاتا ہے
قسم کھا کر میں کہتا ہوں کہ غارِ ثور پہ جا کر
زمانے بھر کے یاروں کا یارانہ ٹھہر جاتا ہے
جسے کہتے ہیں سب حبشی اسی حبشی کی چو کھٹ پر
نبی کی ذات کا ہر اک دیوانہ ٹھہر جاتا ہے
عجب تقسیم الفت کی نظر آتی ہے سدرہ پر
اپنا رک نہیں سکتا بیگانہ ٹھہر جاتا ہے
جہاں باطل مٹانا ہو جہا ں حق بچانا ہے
وہاں میرے محمد کا گھرانہ ٹھہر جاتا ہے
اگر پڑھتا نہیں حبشی اذاں صبح کی اے حاکمؔ
تو صبح کے لیے سورج کا آنا ٹھہر جاتا ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.