Font by Mehr Nastaliq Web

کچھ اور خیالوں میں لایا ہی نہیں جاتا

احمد علی حاکمؔ

کچھ اور خیالوں میں لایا ہی نہیں جاتا

احمد علی حاکمؔ

MORE BYاحمد علی حاکمؔ

    کچھ اور خیالوں میں لایا ہی نہیں جاتا

    ہاں جا کے مدینے سے آیا ہی نہیں جاتا

    گھر واپس جانے کا نہ حکم ہمیں دینا

    سچ یہ ہے کہ اس در سے جایا ہی نہیں جاتا

    کھاتا ہے جہاں سارا سرکار کے لنگر کو

    ہاں اس کے سوا کچھ بھی کھایا ہی نہیں جاتا

    اشکوں کی زباں سے ہی غم لو گ سناتے ہیں

    سر کار کی چو کھٹ پر بولا ہی نہیں جاتا

    سرکار کی اے حاکمؔ اک نعت ہی کافی ہے

    اب گیت کوئی ہم سے گایا ہی نہیں جاتا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے