دلِ مجبور شعلہ بار ہے ہجرِ پیغمبر میں
دلِ مجبور شعلہ بار ہے ہجرِ پیغمبر میں
الٰہی آگ لگ جائے مرے عصیاں کے دفتر میں
یہ شاید باعثِ عفو گنہ ہو جائے محشر میں
لیے جاتا ہوں دو اشکِ ندامت دیدۂ تر میں
وہ عاصی نہر میں فردوس کی جا کر نکلتا ہے
یہاں جو ڈوبتا ہے شرمِ عصیاں کے سمندر میں
مدینہ میں اگر اے ابرؔ میرا دم نکل جائے
قیامت تک رہوں گا سایۂ دامانِ سرور میں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.