Font by Mehr Nastaliq Web

قطرہ مانگے جو کوئی تو اسے دریا دے دے

احمد ندیم قاسمی

قطرہ مانگے جو کوئی تو اسے دریا دے دے

احمد ندیم قاسمی

MORE BYاحمد ندیم قاسمی

    قطرہ مانگے جو کوئی تو اسے دریا دے دے

    مجھ کو کچھ اور نہ دے اپنی تمنا دے دے

    وہ جو آسودگی چاہیں انہیں آسودہ کر

    بے قراری کی لطافت مجھے تنہا دے دے

    میں اس اعزاز کے لائق تو نہیں ہوں لیکن

    مجھ کو ہمسائیگی گنبد خضرا دے دے

    غم تو اس دور کی تقدیر میں لکھے ہیں مگر

    مجھ کو ہر غم سے نمٹ لینے کا یارا دے دے

    تب سمیٹوں میں ترے ابر کرم کے موتی

    میرے دامن کو جو تو وسعت صحرا دے دے

    تیری رحمت کا یہ اعجاز نہیں تو کیا ہے

    قدم اٹھیں تو زمانہ مجھے رستا دے دے

    جب بھی تھک جائے محبت کی مسافت میں ندیمؔ

    تب ترا حسن بڑھے اور سنبھالا دے دے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے