Font by Mehr Nastaliq Web

میں کہ بے_وقعت_و_بے_مایا ہوں

احمد ندیم قاسمی

میں کہ بے_وقعت_و_بے_مایا ہوں

احمد ندیم قاسمی

MORE BYاحمد ندیم قاسمی

    میں کہ بے وقعت و بے مایا ہوں

    تیری محفل میں چلا آیا ہوں

    آج ہوں میں تیرا دہلیز نشیں

    آج کا میں عرش کا ہم سایہ ہوں

    چند پل ہوں تیری قربت میں کٹے

    جیسے اک عمر گزار آیا ہوں

    جب بھی میں ارض مدینہ پہ چلا

    دل ہی دل میں بہت اترایا ہوں

    تیرا پیکر ہے کہ اک حالہ نور

    جالیوں سے تجھے دیکھ آیا ہوں

    کتنی ٹھنڈی ہے تیرے شہر کی دھوپ

    خود کو اکسیر بنا لایا ہوں

    یہ کہیں خامیٔ ایمان ہی نہ ہو

    میں مدینہ سے پلٹ آیا ہوں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے