Font by Mehr Nastaliq Web
Sufinama

اٹھا دو پردہ دکھا دو چہرہ کہ نور_باری حجاب میں ہے

احمد رضا خاں

اٹھا دو پردہ دکھا دو چہرہ کہ نور_باری حجاب میں ہے

احمد رضا خاں

MORE BYاحمد رضا خاں

    اٹھا دو پردہ دکھا دو چہرہ کہ نور باری حجاب میں ہے

    زمانہ تاریک ہو رہا ہے کہ مہر کب سے نقاب میں ہے

    نہیں وہ میٹھی نگاہ والا خدا کی رحمت ہے جلوہ فرما

    غضب سے ان کے خدا بچائے جلال باری عتاب میں ہے

    جلی جلی بو سے اس کی پیدا ہے سوزش عشق چشم والا

    کباب آہو میں بھی نہ پایا مزہ جو دل کے کباب میں ہے

    انہیں کی بو مایۂ سمن ہے انہیں کا جلوہ چمن چمن ہے

    انہیں سے گلشن مہک رہے ہیں انہیں کی رنگت گلاب میں ہے

    تری جلو میں ہے ماہ طیبہ ہلال ہر مرگ و زندگی کا

    حیات جاں کا رکاب میں ہے ممات اعدا کا ڈاب میں ہے

    سیہ لباسان دار دنیا و سبز پوشان عرش اعلیٰ

    ہر اک ہے ان کے کرم کا پیاسا یہ فیض ان کی جناب میں ہے

    وہ گل ہیں لب ہائے نازک ان کے ہزاروں جھڑتے ہیں پھول جن سے

    گلاب گلشن میں دیکھے بلبل یہ دیکھ گلشن گلاب میں ہے

    جلی ہے سوز جگر سے جاں تک ہے طالب جلوۂ مبارک

    دکھا دو وہ لب کہ آب حیواں کا لطف جن کے خطاب میں ہے

    کھڑے ہیں منکر نکیر سر پر نہ کوئی حامی نہ کوئی یاور

    بتا دو آ کر مرے پیمبر کہ سخت مشکل جواب میں ہے

    خدائے قہار ہے غضب پر کھلے ہیں بد کاریوں کے دفتر

    بچا لو آ کر شفیع محشر تمہارا بندہ عذاب میں ہے

    کریم ایسا ملا کہ جس کے کھلے ہیں ہاتھ اور بھرے خزانے

    بتاؤ اے مفلسو کہ پھر کیوں تمہارا دل اضطراب میں ہے

    گنا کی تاریکیاں یہ چھائیں امنڈ کے کالی گھٹائیں آئیں

    خدا کے خورشید مہر فرما کہ ذرہ بس اضطراب میں ہے

    کریم اپنے کرم کا صدقہ لئیم بے قدر کو نہ شرما

    تو اور رضاؔ سے حساب لینا رضاؔ بھی کوئی حساب میں ہے

    مأخذ :
    • کتاب : حدائقِ بخشش (Pg. 78)
    • Author : اعلیٰ حضرت مولانا احمد رضا خاں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے