خوفِ گنہ میں مجرم ہے آب آب کیسا
خوفِ گنہ میں مجرم ہے آب آب کیسا
جب رب ہے مصطفیٰ کا پھر اضطراب کیسا
مجرم ہوں روسیہ ہوں اور لائقِ سزا ہوں
لیکن حبیب کا ہوں مجھ پر عتاب کیسا
سورج میں نور تیرا جلوہ ترا قمر میں
ظاہر تو اس قدر ہے اس پر حجاب کیسا
دامانِ مصطفیٰ ہے مجرم مچل رہے ہیں
دارالاماں میں پہنچے خوفِ عذاب کیسا
مرقد کی پہلی شب ہے دولہا کی دید کی شب
اس شب پہ عید قرباں اس کا جواب کیسا
پڑھتا تھا جس کا کلمہ پایا انہیں نکیرو
ہو لینے دو تصدق اس دم حساب کیسا
سالکؔ کو بخش یارب گو لائقِ سزا ہے
وہ کس حساب میں ہے اس کا حساب کیسا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.