جس نے دکھایا طیبہ و قبلہ تم ہی تو ہو
جس نے دکھایا طیبہ و قبلہ تم ہی تو ہو
جس میں نبی کو دیکھا وہ شیشہ تم ہی تو ہو
اَہلِ نظر کے تم ہی تو ہو مطمحِ نظر
اور اہلِ دل کے دل کی تمنا تم ہی تو ہو
تم وارثِ علومِ حبیبِ الٰہ ہو
اور ناصرِ شریعتِ بیضا تم ہی تو ہو
اس گلستانِ دِین کی تم ہی بہار ہو
اور بزمِ سنیت کا اجالا تم ہی تو ہو
دیں کے نعیم، مظہرِ شانِ معین ہو
کمزور و بے نوا کا سہارا تم ہی تو ہو
سب اہلِ عقل صدرِ افاضل نہ کیوں کہیں
وہ سب ہیں خاتم ان کے نگینہ تم ہی تو ہو
تقریر جس کی قہر الٰہی عدو پہ ہے
اور اہل دیں پہ رحمتِ مولا تم ہی تو ہو
جس کا قلم کہ نیزۂ باطل شکن بنا
اور دینِ مصطفیٰ کا ہے پایہ تم ہی تو ہو
ہم سب تھے جہل کی شبِ تاریک میں پھنسے
شب جس سے کٹ گئی وہ سویرا تم ہی تو ہو
دل کی مراد آپ کی خوشنودیٔ مزاج
اور سالکِؔ فقیر کے منشا تم ہی تو ہو
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.