Font by Mehr Nastaliq Web

دل اس ہی کو کہتے ہیں جو ہو ترا شیدائی

احمد یار خاں نعیمی

دل اس ہی کو کہتے ہیں جو ہو ترا شیدائی

احمد یار خاں نعیمی

MORE BYاحمد یار خاں نعیمی

    دل اس ہی کو کہتے ہیں جو ہو ترا شیدائی

    اور آنکھ وہ ہی ہے جو ہو تیری تماشائی

    کیوں جان نہ ہو قرباں صدقہ نہ ہو کیوں ایماں

    ایمان ملا تم سے اور تم سے ہی جاں پائی

    خلقت کے وہ دولہا ہیں محفل یہ انہی کی ہے

    ہے ان ہی کے دم سے یہ سب انجمن آرائی

    یاشاہِ رسل چشمے بر حالِ گدائے خود

    کز حالِ تباہ وے دانائی و بینائی

    بے مثل خدا کا توبے مثل پیمبر ہے

    ظاہر تری ہستی سے اللہ کی یکتائی

    آقاؤں کے آقا سے بندوں کو ہو کیا نسبت

    اَحمق ہے جو کہتا ہے آقا کو بڑا بھائی

    سینہ میں جو آ جاؤ بن آئے مرے دل کی

    سینہ تو مدینہ ہو دل اس کا ہو شیدائی

    دل تو ہو خدا کا گھر سینہ ہو ترا مسکن

    پھر کعبہ و طیبہ کی پہلو میں ہو یک جائی

    اس طرح سما مجھ میں ہو جاؤں میں گم تجھ میں

    پھر تو ہی تماشا ہو اور تو ہی تماشائی

    اس سالکِؔ بیکس کی تم آبرو رکھ لینا

    محشر میں نہ ہو جائے آقا کہیں رسوائی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے