ہوگیا یاغوث میں برباد ہوتے آپ کے
دلچسپ معلومات
منقبت در شان غوث شیخ عبدالقادر جیلانی (بغداد-عراق)
ہوگیا یاغوث میں برباد ہوتے آپ کے
رہ گیا میں بے کس و ناشاد ہوتے آپ کے
گھوم پھر کر دیکھا سب دروازے مجھ پر بند ہیں
اب کدھر جاؤں شہِ بغداد ہوتے آپ کے
کربلا والوں کا صدقہ مجھ دکھی پر رحم کر
اب کہاں جا کر کروں فریاد ہوتے آپ کے
دیس چھوٹا سارے ساتھی چل دیئے منہ موڑ کر
رہ گیا پردیس میں ناشاد ہوتے آپ کے
تم سخی ابن سخی ابن سخی ہو خسروا
یہ گدا کس کو کرے پھر یاد ہوتے آپ کے
تم شہِ بغداد مولیٰ میں غلامِ خانہ زاد
رنج و غم سے کیوں نہ ہوں آزاد ہوتے آپ کے
عبدِ قادر آپ ہیں ہر شے پہ قادر آپ ہیں
پھر کہوں کس سے پئے امداد ہوتے آپ کے
آپ کا ارشادِ عالی ہے مریدی لا تخف
رنج میں ہے سالکِؔ ناشاد ہوتے آپ کے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.