Font by Mehr Nastaliq Web

ہے جس کی ساری گفتگو وحیِ خدا یہ ہی تو ہیں

احمد یار خاں نعیمی

ہے جس کی ساری گفتگو وحیِ خدا یہ ہی تو ہیں

احمد یار خاں نعیمی

MORE BYاحمد یار خاں نعیمی

    ہے جس کی ساری گفتگو وحیِ خدا یہ ہی تو ہیں

    حق جس کے چہرے سے عیاں وہ حق نما یہی تو ہیں

    سورج میں جن کی ہے چمک جن کا اجالا چاند میں

    پھولوں میں جن کی ہے مہک وہ مہ لقا یہی تو ہیں

    سارا جہان چھوڑ دے جس مجرمِ دید کار کو

    دامن میں ان کے وہ چھپے مشکل کشا یہی تو ہیں

    ہر لب پہ جن کا ذِکر ہے ہر دل میں جن کی فکر ہے

    گاتے ہیں جن کے گیت سب صبح و مسایہی تو ہیں

    چرچا ہے جن کا چار سو ہر گل میں جن کا رنگ و بو

    ہیں حسن کی جو آبرو وہ دلربا یہی تو ہیں

    باغِ رسالت کی ہیں جڑ اور ہیں بہارِ آخری

    مبدا جو اس گلشن کے تھے وہ منتہی یہی تو ہیں

    یہ ہیں حبیبِ کبریا یہ ہیں محمد مصطفیٰ

    دو جگ کو جن کی ذات کا ہے آسرا یہی تو ہیں

    جس کی نہ لے کوئی خبر ہوں بند جس پر سارے در

    اس کی یہ رکھتے ہیں خبر اس کی پنا یہی تو ہیں

    ان کا مبارک نام بھی بے چین دل کا چین ہے

    جو ہو مریضِ لادوا اس کی دوا یہی تو ہیں

    گن گائیں جن کے انبیا مانگیں رسل جن کی دعا

    وہ دو جہاں کے مدعی صلِ علیٰ یہی تو ہیں

    سجدہ شجر جنہیں کریں پتھر گواہی جن کی دیں

    دکھ درد اونٹ بھی کہیں حاجت روا یہی تو ہیں

    ہے فرش کا جو بادشا ہے عرش جس کے زیر پا

    سالکؔ ملا جس سے خدا وہ باخدا یہی تو ہیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے