ہم گو ہیں برے قسمت ہے بھلی جب پشت پناہ ان سا پایا
ہم گو ہیں برے قسمت ہے بھلی جب پشت پناہ ان سا پایا
احمد یار خاں نعیمی
MORE BYاحمد یار خاں نعیمی
ہم گو ہیں برے قسمت ہے بھلی جب پشت پناہ ان سا پایا
وہ جس کو ملے دن اس کے پھر ے پایا جو انہیں تو خدا پایا
معراج کی شب ہمراہ ہیں سب سدرہ آیا کوئی نہ رہا
سدرے سے بڑھے جبریل رہے تنہا ہیں جو عرشِ خدا پایا
جبریل کی آنکھوں سے پوچھو اے چشمِ حقیقت بیں کہہ تو
انہیں فرش پہ تو نے کیا دیکھا سدرے سے بڑھے تو کیا پایا
وہ جس کو ملے، ایمان ملا، ایمان تو کیا رحمن ملا
قرآن بھی جب ہی ہاتھ آیا جب دل نے وہ نورِ ہدیٰ پایا
بے مثلیِ حق کے مظہر ہو پھر مثل تمہارا کیوں کر ہو
نہیں کوئی تمہارا ہم پلہ نہ تیرا کوئی ہم پایہ پایا
نہیں جلوہ میں ان کے یکرا ہی کوئی آقا کہے کوئی بھائی
مؤمن سمجھا بندہ پرور اندھوں نے محض بندہ پایا
ارشاد ہوا سورج لوٹا پایا جو اشارہ چاند چرا
بادل رِم جھم رم جھم برسا جب حکمِ حبیبِ خدا پایا
تم ہی تو ہو و حدت کے مظہر تم ہی تو ہو کثرت کے مصدر
ہے قبلۂ حاجات آپ کا در کعبہ نے تمہیں کعبہ پایا
ستار مرے قربان ترے دنیا میں تو میرے عیب ڈھکے
محشر میں بھی عزت رکھ لینا تم سا نہ کوئی اپنا پایا
صرف ایک پیالہ پانی ہے اور پینے والے چودہ سو
اس وقت ان کی ہر انگلی سے پانی کا رواں چشمہ پایا
جابر کے گھر تھوڑے جو پر مہمان کیا سارا لشکر
سب سیر ہوئے لیکن کھانا جو پہلے تھا ویسا پایا
اب تک تو کھلائے لقمۂ تراب چھوڑ کے در ہم جائیں کدھر
پرسش ہے جہاں ناکاروں کی وہ آپ کا دروازہ پایا
دنیا سے بچالو سالکؔ کو کام اپنی رضا کے اس سے لو
اک یہ ہی تمنا باقی ہے اب تک تو جو کچھ مانگا پایا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.