Font by Mehr Nastaliq Web

بیاں کس منہ سے ہو اس مجمع البحرین کا رتبہ

احمد یار خاں نعیمی

بیاں کس منہ سے ہو اس مجمع البحرین کا رتبہ

احمد یار خاں نعیمی

MORE BYاحمد یار خاں نعیمی

    بیاں کس منہ سے ہو اس مجمع البحرین کا رتبہ

    جو مرکز ہے شریعت کا طریقت کا ہے سر چشمہ

    بنا اس واسطے اللہ کا گھر جائے پیدائش

    کہ وہ اسلام کا کعبہ ہے یہ ایمان کا کعبہ

    وہ ہے خاموش قرآں اور یہ قرآنِ ناطق ہیں

    نہیں جس دل میں یہ اس میں نہیں قرآن کا رستہ

    دلہن زہرہ عمر داماد اور حسنین سے بیٹے

    تری ہستی ہے اعلیٰ اور بالا تر ترا کنبہ

    نبی کی نیند پر اس نے نمازِ عصر قرباں کی

    جو حاضر کر چکا تھا اس سے پہلے جان کا ہدیہ

    نہ کیوں کر لوٹتا اس کے لیے ڈوبا ہوا سورج

    کہ جب اس چاند کے پہلو میں اک سورج کا تھا جلوہ

    تعالی اللہ تری شوکت تری صولت کا کیا کہنا

    کہ خطبہ پڑھ رہا ہے آج تک خیبر کا ہر ذرہ

    ہو چشتی قادری یا نقشبندی سہروردی ہو

    ملا سب کو ولایت کا انہی کے ہاتھ سے ٹکڑا

    ہے صدقہ میل پھر اس پاک و ستھرے کو روا کیوں ہو

    کہ دنیا کھا رہی ہے جس کی آلِ پاک کا صدقہ

    علی مشکل کشا ہیں سب کے سالکؔ کا سہارا ہیں

    ہر اک محتاج ان کا ہو جواں بوڑھا ہو یا بچہ

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے