نہ کوئی رسوخ و اثر چاہیے
نہ کوئی رسوخ و اثر چاہیے
فقط تیری سیدھی نظر چاہیے
زمانہ کی خوبی زمانے کو دے
مجھے صرف دردِ جگر چاہیے
رہے جس میں عشقِ حبیبِ خدا
وہ دل وہ جگر اور وہ سر چاہیے
کوئی راج چاہے کوئی تخت و تاج
مجھے تیرے پیارے کا در چاہیے
بنے جس میں تقدیر بگڑی ہوئی
الٰہی مجھے وہ ہنر چاہیے
ہیں دنیا میں لاکھوں بشر پر وہاں
خبر کے لیے بے خبر چاہیے
خزانے سے رب کے جو چاہو سو لو
نبی کی غلامی مگر چاہیے
دعائیں تو سالکؔ بہت ہیں مگر
اثر کے لیے چشمِ تر چاہیے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.