کہاں ہو یا رسول اللہ کہاں ہو
کہاں ہو یا رسول اللہ کہاں ہو
مری آنکھوں سے کیوں ایسے نہاں ہو
گدا بن کر میں ڈھونڈوں تم کو در در
مرے آقا مجھے چھوڑا ہے کس پر
اگر میں خواب میں دیدار پاؤں
لپٹ قدموں سے بس قربان جاؤں
تمنا ہے تمہارے دیکھنے کی
نہیں ہے اس سے بڑھ کر کوئی نیکی
بسو دل میں سما جاؤ نظر میں
ذرا آجاؤ اس ویرانہ گھر میں
بنا دو میرے سینہ کو مدینہ
نکالو بحرِ غم سے یہ سفینہ
چھڑا لو غیر سے اپنا بناؤ
ہیں سب اچھوں کے بد کو تم نبھاؤ
مری بگڑی ہوئی حالت بنادو
مری سوئی ہوئی قسمت جگادو
تمہارے سینکڑوں ہم سے گدا ہیں
ہمارے آپ ہی اک آسرا ہیں
کھلائیں نعمتیں مجھ بے ہنر کو
دیا آرام مجھ گندے بشر کو
نہیں ہے ساتھ میرے کوئی توشہ
کٹھن منزل تمہارا ہے بھروسہ
کھلیں جب روزِ محشر میرے دفتر
رہے پردہ مرا محبوبِ داور
میں بے زر، بے ہنر، بے پَر ہوں سالکؔ
مگر ان کا ہوں وہ ہیں میرے مالک
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.