Font by Mehr Nastaliq Web

ایسا کوئی محرم نہیں پہنچائے جو پیغامِ غم

احمد یار خاں نعیمی

ایسا کوئی محرم نہیں پہنچائے جو پیغامِ غم

احمد یار خاں نعیمی

MORE BYاحمد یار خاں نعیمی

    ایسا کوئی محرم نہیں پہنچائے جو پیغامِ غم

    تو ہی کرم کر دے تجھے شاہِ مدینہ کی قسم

    ہو جب کبھی تیرا گزر بادِ صبا سوئے حرم

    پہنچا مری تسلیم اس جا ہیں جہاں خیرالامم

    ان نلتِ یا ریح الصبا یوما الیٰ ارض الحرم

    بلغ سلامی روضۃ فیھا النبی المحتشم

    میں دوں تجھے ان کا پتہ گر نہ تو پہچانے صبا

    حق نے انہی کے واسطے پیدا کیے ارض و سما

    رخسار سورج کی طرح ہے چہرہ ان کا چاند سا

    ہے ذات عالم کی پناہ اور ہاتھ دریا جود کا

    من وجہہ شمس الضحیٰ من خدہ بدرالدجیٰ

    من ذاتہ نورالھدیٰ من کفہ بحر الھمم

    حق نے انہیں رحمت کہا اور شافعِ عصیاں کیا

    رتبہ میں وہ سب سے سوا ہیں ختم ان سے انبیا

    وہ مہبطِ قران ہیں ناسخ ہے جو ادیان کا

    پہنچا جو یہ حکم خدا سارے صحیفے تھے فنا

    قراٰنہ برہاننا نسخا لادیانٍ مضت

    اذ جائ نا احکامہٗ لکلِ الصحفِ صارالعدم

    یوں تو خلیلِ کبریا اور انبیائے باصفا

    مخلوق کے ہیں پیشوا سب کو بڑا رتبہ ملا

    لیکن ہیں ان سب سے سوا درِ یتیمِ آمنہ

    وہ ہی جنہیں کہتے ہیں سب مشکل کشا حاجت روا

    یا مصطفیٰ یا مجتبیٰ ارحم علیٰ عصیاننا

    مجبورۃ اعمالنا طمعنا و ذنبا والظلم

    اے ماہِ خوبانِ جہاں اے افتخارِ مرسلیں

    گو جلوہ گر آخر ہوئے لیکن ہو فخرالاولیں

    فرقت کے یہ رنج و عنا اب ہوگئے حد سے سوا

    اس ہجر کی تلوار نے قلب و جگر زخمی کیا

    وہ لوگ خوش تقدیر ہیں اور بخت ہے ان کا رسا

    رہتے ہیں جو اس شہر میں جس میں کہ تم ہو خسروا

    سب اولین و آخریں تارے ہیں تم مہر مبیں

    یہ جگمگائے رات بھر چمکے جو تم کوئی نہیں

    اکبادنا مجروحۃ من سیفِ ہجرِ المصطفیٰ

    طوبیٰ لاھل بلدۃ فیھا النبی المحتشم

    اے دو جہاں پر رحمِ حق تم ہو شفیع المجرمیں

    ہے آپ ہی کا آسرا جب بولیں نفسی مرسلیں

    اس بے کسی کے وقت میں جب کوئی بھی اپنا نہیں

    ہم بے کسوں پر ہو نظر اے رحمۃ للعالمیں

    یا رحمۃ للعالمین انت شفیع المذنبیں

    اکرم لنا یوم الحزینِ فضلا وجودا والکرم

    اس سالکِؔ بدکار کا گو حشر میں کوئی نہیں

    لیکن اسے کیا خوف ہو جب آپ ہیں اس کے معیں

    مجرم ہوں میں غفار رب اور تم شفیع المذنبیں

    پھر کیوں کہوں بیکس ہوں یا رحمۃ للعالمیں

    یا رحمۃ للعالمیں ادرک لزینِ العابدیں

    محبوس ایدی الظالمین فی مرکبٍ والمزدحم

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے