الوداع اے سبز گنبد کے مکیں
الوداع اے سبز گنبد کے مکیں
الفراق اے رحمۃ للعالمیں
الوداع اے مظہرِ ذاتِ خدا
الفراق اے خلق کے مشکل کشا
الوداع اے شہرِ پاکِ مصطفیٰ
الفراق اے مہبطِ وحیِ خدا
جارہا ہے اب ہمارا قافلہ
اے در و دیوارِ شہرِ مصطفٰی
یاد تیری جس گھڑی بھی آئے گی
ہے یقیں دل کو بہت تڑپائے گی
اے دلوں کے چین اے پیارے نبی
لو غلاموں کا سلامِ آخری
دور سے آئے تھے پردیسی غلام
عرض کرنے کو غلامانہ سلام
آستانہ سے وداع ہوتے ہیں اب
یہ تو فرماؤ کہ بلواؤ گے کب
چشمِ رحمت سے نہ تم کرنا جدا
رکھنا اپنے سائے میں ہم کو سدا
اے مدینہ والو تم سب خوش رہو
دامنِ محبوب میں پھولو پھلو
عرض اتنی ہے مگر اے دوستو
یاد ہم کو بھی کبھی کر لیجیو
آخری دیدار ہے اے زائرو
خوب جی بھر کر یہ گنبد دیکھ لو
کیا خبر ہے خوب دل میں سوچ لو
پھر مقدر میں ہو آنا یا نہ ہو
یہ کوئی دم میں چھپا جاتا ہے اب
فاصلہ کوسوں ہوا جاتا ہے اب
پھر کہاں تم اور کہاں یہ دوستو
دِید آخر کو غنیمت جان لو
ہے دعا سالکؔ کی اے بارِ خدا
زندگی میں پھر مدینہ دے دکھا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.