دل آویز ہے قابل داد ہے
دل آویز ہے قابل داد ہے
محمد کا کیا خوب ارشاد ہے
خلاصہ ہے قرآں کے فرمان کا
کہ لالچ نہ کر مال کا جان کا
یہ بیکار ہیں تاج و تخت و نگیں
اگر دل حقیقت کا قائل نہیں
اگر خود روی خود اساسی نہیں
نظر محرمِ حق شناسی نہیں
اگر تیرا شیوہ ہے مکر و ریا
پتہ مل سکے گا نہ ایمان کا
تو مذہب کو پہچانتا ہے بتا؟
خدا کیا ہے یہ جانتا ہے! بتا؟
غریبوں کی خدمت ہو تیرا شعار
اسی میں ہے مستور رازِ وقار
کبھی سن سکے تو جو پیغامِ غیب
ہنر میں بدل جائیں سب تیرے عیب
درندوں کی عادات سے باز آ!
بدی سے برائی سے خود کو بچا
کیا نام بدنام انسان کا
اگر کام اپنایا شیطان کا
جکڑ نہ سکے جس کو دام شہی
فریب اس سے ممکن نہیں ہے کبھی
اگر پاس صدق و صفا ہی نہیں
اگر تجھ کو خوف خدا ہی نہیں
اگر دل پہ ہے نقش عشقِ بتاں
خدا کا فقط نام زیبِ زباں
تو پھر کچھ نہیں شوکت ظاہری
عبث ہے ترا دعویٰ برتری
ارے زندگی ہے مثالِ حباب
پلٹ کر نہ آئے گا دورِ شباب
کرے گا اگر حق سے تو اجتناب
رہے گا ہمیشہ شکارِ عذاب
رہے دل اگر حق سے نا آشنا
نہیں اس میں کچھ زندگی کا مزا
نہیں قابلِ اعتنا زندگی
اگر دل نہیں قائلِ بندگی!
انہیں فکرِ ظلمت نہ خوفِ سحاب
ہمہ نور ہیں جو ہمہ آفتاب
تو اخترؔ کسی کا بھی دل نہ دکھا
اسی میں ہے پیغامِ عرفان کا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.