ترے دامن کرم میں جسے نیند آگئی ہے
ترے دامن کرم میں جسے نیند آگئی ہے
جو فنا نہ ہوگی ایسی اسے زندگی ملی ہے
مجھے کیا پڑی کسی سے کروں عرض مدعا میں
مری لو تو بس انہیں کے درِ جود سے لگی ہے
وہ جہان بھر کے داتا مجھے پھیر دیں گے خالی
مری توبہ اے خدا یہ مرے نفس کی بدی ہے
جو پئے سوال آئے مجھے دیکھ کر یہ بولے
اسے چین سے سلاؤ کے یہ بندۂ نبی ہے
اے نسیم کوئے جاناں ذرا سوئے بد نصیباں
چلی آ کھلی ہے تجھ ہہ جو ہماری بے کسی ہے
ترا دل شکستہ اختریؔ اسی انتظار میں ہے
کہ ابھی نوید وصلت ترے در سے آ رہی ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.