میں اپنی سرگزشتِ آرزو کو معتبر کر لوں
میں اپنی سرگزشتِ آرزو کو معتبر کر لوں
ٹھہر اے گردشِ دوراں مدینے کا سفر کر لوں
اگر ہم دونوں مل کر بادۂ حبِ نبی پی لیں
تو میرے دل میں گھر کر لے میں تیرے دل میں گھر کر لوں
حضوری کی سعادت سے نوازے گر خدا مجھ کو
کبھی سجدہ اِدھر کر لوں کبھی سجدہ اُدھر کر لوں
نظر آئیں مجھے شام و سحر جلوے محمد کے
مذاقِ جستجو میں عشق کو شامل اگر کر لوں
فروزاں کرکے ہر سو اُن کی یادوں کے چراغوں کو
منور پھر شبستانِ وفا کے بام و در کر لوں
تصور دوں زمانے کو نئی شیرازہ بندی کا
بہم سب کو محمد مصطفیٰ کے نام پر کر لوں
یہی اک آرزو ہے حرز جانِ آرزو اخترؔ
طوافِ کوچۂ محبوب حق با چشمِ تر کر لوں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.