Font by Mehr Nastaliq Web

حالِ دل کس کو سنائیں آپ کے ہوتے ہوئے

الطاف کاظمی

حالِ دل کس کو سنائیں آپ کے ہوتے ہوئے

الطاف کاظمی

MORE BYالطاف کاظمی

    حالِ دل کس کو سنائیں آپ کے ہوتے ہوئے

    کیوں کسی کے در پہ جائیں آپ کے ہوتے ہوئے

    میں غلام مصطفیٰ ہوں یہ مری پہچان ہے

    غم مجھے کیوں کر ستائیں آپ کے ہوتے ہوئے

    شانِ محبوبی دکھائی جائے گی محشر کے دن

    کون دیکھے گا خطائیں آپ کے ہوتے ہوئے

    زلفِ محبوب خدا لہرائے گی محشر کے دن

    خوب یہ کس کی گھٹائیں آپ کے ہوتے ہوئے

    میں یہ کیسے مان جاؤں شام کے بازار میں

    چھین لے کوئی ردائیں آپ کے ہوتے ہوئے

    اپنا جینا اپنا مرنا اب اسی چوکھٹ پہ ہے

    ہم کہاں سرکار جائیں آپ کے ہوتے ہوئے

    کہہ رہا ہے آپ کا رب انت فیھِم آپ سے

    میں انہیں دوں کیوں سزائیں آپ کے ہوتے ہوئے

    یہ تو ہو سکتا نہیں ہے یہ بات ممکن ہی نہیں

    میرے گھر میں غم آ جائیں آپ کے ہوتے ہوئے

    کون ہے الطافؔ اپنا حال دل کس سے کہیں

    زخم دل کس کو دکھائیں آپ کے ہوتے ہوئے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے