Font by Mehr Nastaliq Web

کہاں تاب نظر دیکھوں میں جلوہ شاہِ قاتل کا

علوی اجمیری

کہاں تاب نظر دیکھوں میں جلوہ شاہِ قاتل کا

علوی اجمیری

MORE BYعلوی اجمیری

    دلچسپ معلومات

    نوٹ: حضرت قاتلؔ اجمیری کے چہلم کے موقع پر عیدگاہ میدان، بندر روڈ، کراچی میں ضیاؤالقادری بدایونی کی صدارت میں ایک طرحی مشاعرہ منعقد ہوا، جس کے لیے مصرعِ طرح ’’مریدوں کے لیے کعبہ ہے روضہ شاہِ قاتل کا‘‘ سیمابؔ اکبرآبادی نے اپنے زمانۂ علالت میں پیش کیا۔

    کہاں تاب نظر دیکھوں میں جلوہ شاہِ قاتل کا

    خدا کے نور کا پیکر سراپا شاہِ قاتل کا

    دُرِ مقصد سے خالی دستِ سائل رہ نہیں سکتا

    اگر قدرت کو ہو جائے اشارہ شاہِ قاتل کا

    زہے اعجاز کشتوں کو حیاتِ جاوداں بخشی

    لقب پھر کیوں نہ ہو رشکِ مسیحا شاہِ قاتل کا

    تجلی ہے یہاں انوارِ عرفانِ الٰہی کی

    کہ روضہ ہے مثالِ طور سینا شاہِ قاتل کا

    مری سر شادیاں علویؔ ابد تک بھی نہ جائیں گی

    ہوں سر مستِ ازل مخمورِ صہبا شاہِ قاتل کا

    مأخذ :
    • کتاب : Gulha-e-Aqidat (Pg. 27)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے