ہے بحر عطا موج پر شاہ قاتل
دلچسپ معلومات
نوٹ: یہ مشاعرہ حضرت قاتلؔ اجمیری کے عرس کی مناسبت سے عیدگاہ میدان، بندر روڈ، کراچی میں منعقد ہوا تھا، اس مشاعرے کی صدارت بہزادؔ لکھنوی نے فرمائی تھی، جبکہ مصرعِ طرح ’’تمہیں ڈھونڈتی ہے نظر شاہِ قاتل‘‘ مقرر کیا گیا تھا۔
ہے بحر عطا موج پر شاہ قاتل
ادھر بھی کرم کی نظر شاہ قاتل
جو مدحت نگاری میں عاجز ہے خامہ
تو قاصر ہے نظم و نثر شاہ قاتل
ہو تم پردہ دارِ حجاب و حقیقت
وہاں کیسے پہنچے نظر شاہ قاتل
کروں کیا میں تشریح افسانۂ غم
اک عالم ہے زیر و زبر شاہ قاتل
خدا کی تجلی ہے جلوہ تمہارا
کہاں جائیں ہم طور پر شاہ قاتل
پڑے کون الجھن میں دیر و حرم کی
ہے کافی تمہارا ہی در شاہ قاتل
مدد کیجیے علویِؔ خستہ جاں کی
خدا را شہ داد گر شاہ قاتل
- کتاب : Gulha-e-Aqidat (Pg. 41)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.